-فصل: [صحیحین کی فضیلت اور ترجیح]
علماء کرامؒ کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآنِ کریم کے بعد سب سے معتبر اور صحیح کتابیں صحیحین، یعنی امام بخاریؒ کی صحیح اور امام مسلمؒ کی صحیح ہیں۔ امت سے ان دونوں کتابوں کو قبولیت ملی ہے ۔ البتہ صحیح بخاریؒ ان دونوں میں زیادہ معتبر اور صحیح ہے، اور اس میں ظاہر و خفی فوائدو معارف کی کثرت بھی ہے ۔ یہ بھی واضح ہے کہ امام مسلمؒ خود امام بخاریؒ سے استفادہ کرتے اور اس بات کا اعتراف فرماتے ہیں کہ علمِ حدیث میں ان کی کوئی نظیر نہیں۔ صحیح بخاریؒ کی صحیح مسلمؒ پر ترجیح کا یہ نقطہ نظر جمہور، اہلِ اتقان، اصحابِ حذق، اور دقائقِ حدیث میں غور کرنے والوں کا ہے۔ البتہ ابو علی حسین بن علی نیسابوری حافظ، جو امام حاکم ابو عبد اللہ بن البیع کے شیخ ہیں، نے مسلم کی کتاب کو صحیح تر قرار دیا ہے۔ مغرب کے بعض مشائخ نے بھی ان کی موافقت کی ہےاور صحیح مسلمؒ کو افضل کہا ہے۔ مگر درست اور صائب پہلی رائے ہے۔ امام حافظ، فقیہ، اور ناقد ابو بکر اسماعیلیؒ نے اپنی کتاب المدخل میں بخاریؒ کی ترجیح کے مضبوط دلائل بیان کیے ہیں۔ ہمارے سامنے امام ابو عبد الرحمن نسائیؒ کی روایت آئی ہے کہ ان کے نزدیک ان تمام کتابوں میں بخاریؒ کی کتاب سے افضل اور برتر کوئی نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں کہ علماء کے صحیح بخاریؒ کی ترجیح پر اتفاق کا جامع ترین سبب یہ ہے کہ امام بخاریؒ، امام مسلمؒ سے زیادہ جلیل القدر اور فنِ حدیث کے دقائق و صنائع سے زیادہ واقف تھے۔ انہوں نے اپنے علم کا خلاصہ اور اپنی پسندیدہ روایات کا نچوڑ اس کتاب میں جمع کیا، اور اس کی تہذیب و تنقیح میں سولہ برس صرف کیے۔ انہوں نے اس میں شامل روایات کو بے شمار صحیح احادیث کے وسیع ذخیرے میں سے منتخب کیا۔ میں نے ان دلائل کی وضاحت صحیح بخاری پر اپنی شرح کے آغاز میں کر دی ہے۔
صحیح بخاریؒ کو مسلم کی کتاب پر ترجیح دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امام مسلمؒ کا اصول یہ تھا، اور انہوں نے اپنی صحیح کے آغاز میں اس پر اجماع کا دعوی کیا ہے، کہ معنعن سند کو محض اس بنا پر متصل قرار دیا جائے گا کہ راوی اور مروی عنہ ایک ہی زمانے میں موجود ہوں، اگرچہ ملاقات کا ثبوت نہ ہو۔ بخاریؒ، اس کے برخلاف، معنعن کو متصل نہیں مانتے جب تک راوی اور مروی عنہ کی ملاقات ثابت نہ ہو۔ یہی اصول صحیح بخاریؒ کو راجح بناتا ہے، اگرچہ ہم یہ نہیں کہتے کہ امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں اس اصول پر عمل بھی کیا، کیونکہ وہ ہر حدیث کے کئی طرق جمع کر لیتے تھے جس کے باعث ان کی معنعن روایات پر یہ حکم، جس کے جواز کے وہ قائل ہیں، لگانا مشکل ہے۔ واللہ أعلم۔
امام مسلمؒ کی کتاب ایک منفرد خوبی کی وجہ سے ممتاز ہے۔ وہ یہ ہےکہ ان کی کتاب سے استفادہ آسان ہے۔ کیونکہ انہوں نے ہر حدیث کے لیے ایک مقام مقرر کیا، جہاں وہ اپنی تحقیق کے مطابق مقبول اور مختار تمام معتبر طرق اور متعدد اسانید کو یکجا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ اس باب کی تمام مرضی روایات اور متنوع متون جمع کر دیتے ہیں۔ اس سے طالبِ علم کے لیے تمام طرق پر نظر رکھنا، ان سے استفادہ کرنا، اور متعدد روایات کی بنیاد پر اعتماد حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے برخلاف، بخاریؒ ان مختلف روایات کو الگ الگ اور دور دور کے ابواب میں بیان کرتے ہیں، اور اکثر ایک روایت کو ایسے ابواب میں بیان کرتے ہیں جہاں پہلی نظر میں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اصل مقام کوئی اور باب ہونا چاہیے۔ یہ اس لیے ہے کہ بخاریؒ کے ذہن میں کوئی نہایت دقیق نکتہ ہوتا ہے۔ البتہ اس کی وجہ سے طالبِ علم کے لیے ان تمام طرق کو جمع کرنا دشوار ہو جاتا ہے اور ہر حدیث کے تمام ذکر کردہ طرق کے اجتماع سے ان پر یقین کا حصول بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ متأخرین حفاظ کی ایک جماعت کو اس معاملے میں غلطی لگی۔ انہوں نے صحیح بخاریؒ میں موجود بعض احادیث کی روایت سے انکار کر دیا، حالانکہ وہ احادیث کتاب میں موجود ہیں، مگر انہیں ایسے ابواب میں بیان کیا گیا ہے جو ان کا سابق الی الفہم مقام نہیں۔ واللہ أعلم۔
صحیح مسلمؒ کی فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نیشاپور کے حافظ مکی بن عبدانؒ نے کہا کہ اگر اہلِ حدیث دو سو سال تک احادیث لکھتے رہیں، تو بھی ان کا مدار اس مسند، یعنی امام مسلمؒ کی صحیح، پر رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے امام مسلمؒ کو یہ کہتے سنا: میں نے اپنی کتاب امام ابو زرعہ رازیؒ کے سامنے پیش کی۔ جس روایت میں انہوں نے اشارہ کیا کہ اس میں کوئی علت ہے، میں نے اسے چھوڑ دیا، اور جس روایت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں، میں نے اسے کتاب میں شامل کر لیا۔ایک دوسرے عالم نے کہا ہے کہ حافظ ابو بکر خطیب بغدادیؒ نے اپنی سند کے ساتھ امام مسلمؒ سے یہ روایت کیا ہے کہ میں نے اس مسندِ صحیح کو تین لاکھ مسموعہ احادیث سے انتخاب کر کے تصنیف کیا ہے۔
نوٹ: یہ ترجمہ علمی استفادے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی مقام پر ترجمے یا مفہوم سے متعلق اصلاح کی ضرورت محسوس ہو تو مطلع فرمائیں۔
ReplyDelete