شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، ۲ اس کتاب کی اسناد اور امام نووی اور امام مسلمؒ کے درمیان واقع رواۃ کے احوال کا مختصر بیان
فصل: اس کتاب کی اسناد اور ہمارے اور امام مسلمؒ کے درمیان واقع رواۃ کے احوال کا مختصر بیان:
جہاں تک اس کتاب میں میری سند کا تعلق ہے، تو مجھے امام مسلم بن حجاجؒ کی پوری صحیح جامعِ دمشق میں شیخِ امین، عادل اور مرضیّ، ابو اسحاق ابراہیم بن ابی حفص عمر بن مضر الواسطیؒ نے روایت کی۔ اللہ تعالیٰ دمشق، تمام بلادِ اسلام اور ان کے اہل کی حفاظت فرمائے۔ انہوں نے فرمایا: ہمیں امام، متعدد کنیتوں والے، ابو القاسم، ابو بکر، ابو الفتح منصور بن عبد المنعم الفراوی نے خبر دی۔ انہوں نے فرمایا: ہمیں امام، فقیہ الحرمین، میرے پردادا ابو عبد اللہ محمد بن الفضل الفراوی نے خبر دی۔ انہوں نے فرمایا: ہمیں ابو الحسین عبد الغافر الفارسی نے خبر دی۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے احمد محمد بن عیسیٰ الجلودی نے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان الفقیہ نے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے امام ابو الحسین مسلم بن حجاجؒ نے بیان کیا۔
یہ وہ سند ہے جو ہمیں، اور ہمارے اہلِ زمانہ میں اُن لوگوں کو حاصل ہوئی ہے جو اس میں ہمارے شریک ہیں، اور بحمد اللہ یہ نہایت بلند سندوں میں سے ہے، چنانچہ ہمارے اور امام مسلمؒ کے درمیان صرف چھ واسطے ہیں۔ اسی تعداد کے ساتھ ہمیں اُن چار کتابوں کی روایت بھی حاصل ہوئی ہے جو اُن پانچ کتابوں کی تکمیل کرتی ہیں جو اصولِ اسلام میں شمار ہوتی ہیں، یعنی صحیح البخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داود، جامع الترمذی اور سنن النسائی۔ مزید برآں دو اماموں ، یعنی کہ امام عبد اللہ بن احمد بن حنبل اور محمد بن یزید، ابن ماجہ، کی مسانید تک میری سند بھی چھ واسطوں پر مشتمل ہے۔
امام ابو عبداللہ مالک بن انس کی موطا تک میری سند اس [ایک نسبت سے] سے اس سے بھی عالی ہے۔ اگرچہ موطا بہت عالی ہے، مگر میرے اور امام مالک رحمہ اللہ کے درمیان صرف سات راوی آتے ہیں۔ [ہم جانتے ہیں] امام مالک اوپر مذکور تمام مصنین کے شیوخ کے شیخ ہیں۔ اس طرح امام مالک کی حدیث تک میری سند [ان مصنفین] کے اعتبار سے ایک درجہ عالی ہے۔ تمام حمد اللہ کے لیے ہے اور تمام عنایت اسی کی ہے۔
امام مسلم سے میری اسناد میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کلیتاً معمر نیساپوری روات پر مشتمل مسلسل اسناد ہے۔ [میری سند] میں میرے شیخ ابو اسحاق سے لے کر امام مسلم تک اس سلسلے کے سارے راوی معمر ہیں اور سب کے سب نیساپوری ہیں۔ ہمارے شیخ اگرچہ واسطی تھے، مگر وہ نیساپور میں کافی طویل عرصے تک رہے۔ واللہ اعلم۔
جہاں تک اس کے راویوں کے احوال کا تعلق ہے، تو ان کی اخبار اور احوال کا استقصاء طوالت کا باعث ہو گا۔ میں اسی پر اکتفاء کروں گا کہ ان کے اسماء کو ضبط کر دوں اور کچھ کلام ان کے احوال کے بارے میں کر دوں۔
ہمارے شیخ ابو اسحاق اہل صلاح میں سے تھے۔ خیر اور فلاح ان کی پہچان تھی۔ آپ خیر کے کاموں میں کثرت صدقہ اور انفاق کے لیے مشہور تھے۔ آپ بہت عفیف، عبادت گزار، باوقار، اور پرہیزگار [صیانت والے] تھے۔ اس کے باوجود آپ ہر قسم کے تکبر سے پاک تھے۔ آپ کی وفات سات رجب ۶۶۴ ہجری کو اسکندریہ میں ہوئی۔
جہاں تک ہمارے شیخ کے شیخ کا تعلق ہے تو وہ ہیں: متعدد کنیتوں والے، ابوقاسم ابو بکر ابو فتح منصور بن عبد منعم بن عبداللہ بن محمد بن فضل بن احمد بن محمد بن احمد بن ابو عباس سعدی فراوی نیساپوری۔ آپ کی نسبت فراوی ثغور خراسان کے ایک قریہ فراوہ کی وجہ سے ہے۔ [اس قریے کا نام] فَراوہ [ف پر زبر کے ساتھ] اور فُراوہ [ف کی پیش کے ساتھ]، دونوں طریقوں سے بولا جاتا ہے۔ فَراوہ محدثین اور دیگر لوگوں کے ہاں عام طور پر مستعمل ہے، اور مشہور ہے۔ شیخ امام حافظ عمرو بن صلاح نے بیان کیا ہے کہ آپ نے اپنے شیخ منصور، رضی اللہ تعالیِ عنہ سے [حدیث] سنی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ منصور فَراوی [ف پر زبر کے ساتھ] تھے۔ ابو سعید سمعانی انے اپنی کتاب الانساب میں بیان کیا ہے کہ اس قریہ کا نام فُراوہ ہے۔ اسی طرح یہ تلفظ، [یعنی کہ] ف پر پیش کے ساتھ سمعانی کے علاوہ دیگر علماء نے بھی بیان کیا ہے۔
منصورؒ ایک جلیل القدر شیخ تھے، کثرتِ روایت رکھتے تھے، ثقہ تھے، اور ان کا سماع صحیح تھا۔ انہوں نے اپنے والد، اپنے دادا، اور اپنے جدِّ اعلیٰ ابو عبد اللہ محمد بن الفضل سے روایت کی، اور ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں سے روایت کی۔ ان کی ولادت رمضان سنہ 522ھ میں ہوئی، اور وفات شعبان سنہ 608ھ میں شاذیاخ نیشاپور میں ہوئی۔
اور جہاں تک ابو عبد اللہ فراوی کا تعلق ہے تو یہ شیخ محمد بن فضل ہیں، جو ابو منصور نیساپوری کے دادا ہیں۔ ان کا نسب انکے پوتے منصور کے ترجمے میں گزر چکا ہے۔ شیخ ابو عبد اللہ فراوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقہ، اصول فقہ، اور دیگر علوم کے ماہر امام تھے۔ آپ کی روایات بہت زیادہ ہیں اور آپ کی اسانید صحیح اور عالی ہیں۔ دور دراز سے طالب حدیث آپ کی طرف سفر کرتے۔ لہٰذا آپ کی بیان کردہ روایتیں قرب و جوار اور دور دراز علاقوں میں پھیل گئیں۔ اسی وجہ سے لوگ کہتے تھے کہ للفراوى ألف راوى، یعنی فراوی [کی حدیثوں] کے ایک ہزار راوی ہیں۔ آپ کو فقیہ حرم بھی کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ مکہ مکرمہ، اللہ اس کے فضل اور شرف کو افزوں کرے، میں علم کو بہت پھیلایا اور عام کیا۔
امام حافظ ابو القاسم دمشقی معروف بابن عساکرؒ نے ان کا ذکر کیا ہے اور ان کے شایانِ شان ان کی مدح میں نہایت بسط سے کلام کیا ہے۔ پھر انہوں نے ابو الحسین عبد الغافر سے روایت کیا کہ انہوں نے ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا: وہ فقیہ الحرم تھے، فقہ اور اصول میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، قواعد کے بڑے حافظ تھے۔ صوفیہ کی آغوش میں پرورش پائی تھی اور ان کی روحانی صحبتوں کی برکتیں ان تک پہنچی تھیں۔ انہوں نے امام زین الاسلام سے تصانیف اور اصول کی کتب سماع کیں اور انہی سے اصول اور تفسیر کی تحصیل کی۔ پھر وہ امام الحرمین کی مجلس میں حاضر ہونے لگے، اور آخر عمر تک ان کے درس سے وابستہ رہے۔ انہی سے فقہ حاصل کی، اصول ان سے اخذ کیے، اور ان کے ممتاز اصحاب میں شمار ہوئے۔
پھر وہ حج کے لیے مکہ گئے۔ بغداد اور دوسرے شہروں میں حلقۂ درس قائم کیا۔ حرمین میں علم کو خوب عام کیا، اور وہاں ان کے ذریعے علم کا اثر، ذکر اور اشاعت نمایاں ہوئی۔ پھر نیشاپور واپس آئے۔ انہوں نے کبھی علما کی حد اور صالحین کی سیرت سے تجاوز نہ کیا۔ تواضع، لباس میں سادگی، اور معاشرت میں بے تکلفی ان کا شیوہ تھا۔ شحامی خاندان سے مصاہرتی تعلق کی بنا پر انہوں نے شروط نویسی کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا، تاکہ اپنی عزت اور اپنے علم کو لوگوں کی رعایتوں اور عطاؤں کی توقع سے محفوظ رکھیں، اور اسی سے جو کچھ حاصل ہوتا، اسی سے گزر بسر کرتے رہیں۔ پھر مدرسۂ ناصحہ میں تدریس کے لیے بیٹھے اور وہاں طلبہ کو فائدہ پہنچایا۔ انہوں نے مسانید اور صحاح کی بکثرت سماع کی تھی، اور اپنے عہد کے شیوخ سے بہت زیادہ روایت لی تھی۔ وعظ و تذکیر کی ان کی مجالس فوائد سے لبریز ہوتیں، ان میں نصیحت میں مبالغہ ہوتا، مشائخ کی حکایات سنائی جاتیں اور ان کے احوال بیان کیے جاتے۔
حافظ ابو القاسمؒ کہتے ہیں: امام محمد الفراویؒ کی طرف میرا دوسرا سفر اسی لیے ہوا کہ اس علاقے میں اصل مقصودِ سفر وہی تھے، اس لیے کہ ان میں بلند سند، وافر علم، درست عقیدہ، عمدہ اخلاق، نرم خوئی، اور طالبِ علم کی طرف کامل توجہ، سب خوبیاں جمع تھیں۔ چنانچہ میں پورا ایک سال ان کی صحبت میں رہا اور ان کے مسموعات سے نہایت اچھے اور وافر فوائد حاصل کیے۔ وہ اپنے پاس آنے والوں کی عزت کرتے تھے اور میرے سفر و قصد کے حق کو خوب پہچانتے تھے۔ میرے قیام کے دوران وہ ایک مرض میں مبتلا ہوئے۔ طبیب نے انہیں اس حالت میں اپنے اوپر قراءت کرانے سے منع کیا اور بتایا کہ اس سے شاید ان کی تکلیف بڑھ جائے۔ مگر انہوں نے فرمایا: میں یہ جائز نہیں سمجھتا کہ انہیں [یعنی حدیث شریف کے طالبوں] قراءت سے روک دوں، ممکن ہے دنیا میں میری کچھ وقعت ہی انہی لوگوں کی وجہ سے ہو۔ چنانچہ میں ان کے سامنے ان کی بیماری کی حالت میں قراءت حدیث کرتا تھا، جبکہ وہ اپنے بستر پر لیٹے ہوتے تھے۔ پھر وہ اس مرض سے شفا یاب ہو گئے۔
اس کے بعد میں ہرات کی طرف روانہ ہوا۔ رخصت کے وقت انہوں نے، جدائی پر بے حد افسوس ظاہر کرتے ہوئے، مجھ سے کہا: شاید اس کے بعد ہماری ملاقات نہ ہو۔ اور ہوا بھی ایسا ہی۔ پھر ہرات میں ہمیں ان کی وفات کی خبر پہنچی۔ ان کی وفات شوال سنہ 530ھ کے آخری عشرے میں ہوئی، اور انہیں ابو بکر بن خزیمہؒ کی تربت میں دفن کیا گیا۔ حافظ نے ان کے مناقب کے سلسلے میں اور بھی بہت سی باتیں ذکر کی ہیں، مگر میں نے اختصار کے لیے انہیں چھوڑ دیا ہے۔
ابو سعید سمعانی نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ابو عبد اللہ فراوی سے ان کی تاریخِ ولادت پوچھی تو انہوں نے فرمایا: اندازاً میری ولادت 441ھ میں ہوئی۔ اور ایک دوسرے عالم نے کہا ہے کہ ان کی وفات جمعرات کے روز، شوال سنہ 530ھ کی اکیسویں یا بائیسویں تاریخ کو ہوئی۔ حافظ شیخ ابو عمروؒ نے لکھا ہے: فقہِ مذہب میں ان کی ایک کتاب ہے، جس سے میں نے چند ایسے فوائد منتخب کیے جو مجھے نہایت نادر معلوم ہوئے۔ اور انہوں نے صحیح مسلم عبد الغافر سے اسی سال سنی جس میں عبد الغافر کا انتقال ہوا، یعنی 448ھ میں، ابو سعید بحیریؒ کی قراءت کے ساتھ۔
اور جہاں تک فراوی کے شیخ کا تعلق ہے، تو وہ ابو الحسین عبد الغافر بن محمد بن عبد الغافر بن احمد بن محمد بن سعید فارسی فسوی، پھر نیشاپوری تاجر ہیں۔ انہوں نے جلودی سے صحیح مسلم کا سماع 365ھ میں کیا۔
ان کا ذکر ان کے پوتے ابو الحسن عبد الغافر بن اسماعیل بن عبد الغافر فارسی نے کیا ہے، جو ادیب، امام، محدث، محدث کے بیٹے، محدث کے پوتے، اور متعدد تصانیف کے مصنف تھے۔ ذیل تاریخ نیشاپور، مجمع الغرائب، اور المفهم لشرح غریب صحیح مسلم وغیرہ ان کی تصانیف ہیں۔ انہوں نے کہا: وہ ایک ثقہ، صالح، پاک باز شیخ تھے، جنہیں دین و دنیا دونوں میں وافر حصہ ملا تھا۔ کم سماع کے باوجود روایت میں مضبوط تھے، مشہور تھے، اطراف و اکناف سے لوگ ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔ بڑے بڑے ائمہ اور اصحابِ وجاہت نے ان سے سماع کیا۔ حافظ حسن سمرقندی نے ان کے سامنے صحیح مسلم تیس سے زائد مرتبہ پڑھی، اور ابو سعید بحیری نے بیس سے زائد مرتبہ اس کی قراءت کی۔ جن مشہور ائمہ نے ان پر یہ کتاب پڑھی، ان میں زین الاسلام ابو القاسم، یعنی قشیری، واحدی اور دوسرے بہت سے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے پچانوے برس کی عمر پائی، یہاں تک کہ پڑپوتوں کو بھی اپنے سامنے دیکھا۔ ان کا انتقال منگل کے روز ہوا اور بدھ کے دن، چھ شوال 448ھ کو انہیں دفن کیا گیا۔
دیگر نے کہا ہے کہ ان کی ولادت 353ھ میں ہوئی تھی۔ دنیا بھر کے ائمہ نے، خواہ وہ باہر سے آنے والے ہوں، طاری ہوں یا مقامی، ان سے سماع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سماع اور روایت میں، قلتِ سماع کے باوجود، بڑی برکت رکھی۔ اپنے زمانے میں وہ صحیح مسلم اور خطابی کی غریب کی روایت کے لیے سب سے زیادہ مشہور تھے۔ انہوں نے خطابی اور اپنے عہد کے دوسرے اہلِ علم سے بھی سماع کیا تھا۔ اللہ ان پر رحمت فرمائے۔
اور جہاں تک فارسی کے شیخ کا تعلق ہے، تو وہ ابو احمد محمد بن عیسیٰ بن محمد بن عبد الرحمن بن عمرویہ بن منصور زاہد نیشاپوری جلودی ہیں۔ جلودی کی نسبت میں جیم بلا اختلاف پیش کے ساتھ ہے۔ امام ابو سعید سمعانی نے فرمایا: یہ نسبت معروف لفظ جلود کی طرف ہے، جو جلد کی جمع ہے۔ شیخ ابو عمرو ابن صلاحؒ کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ نسبت نیشاپور کے ایک محلے سکۃ الجلودیین کی طرف ہے، جو اب متروک ہو چکا ہے۔ اور جو کچھ شیخ ابو عمرو نے فرمایا، اس پر سمعانی کے کلام کو محمول کیا جا سکتا ہے۔ میں نے یہ خاص طور پر اس لیے کہا کہ یہاں جلودی جیم کے ضمہ کے ساتھ بلا اختلاف ہے، کیونکہ ابن سکیت اور ان کے رفیق ابن قتیبہ نے اپنی مشہور کتابوں میں لکھا ہے کہ جلودی جیم کے فتحہ کے ساتھ افریقہ کے ایک گاؤں جلود کی طرف نسبت ہے۔ بعض اور اہلِ علم نے کہا ہے کہ یہ گاؤں شام میں ہے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ جو اس گاؤں کی طرف منسوب ہو، اس کی نسبت جیم کے فتحہ کے ساتھ ہوگی، کیونکہ اصل نام ہی مفتوح ہے۔ لیکن ابو احمد جلودی اس گاؤں کی طرف منسوب نہیں ہیں، اس لیے ان دونوں حضرات کے کلام میں ہمارے بیان کردہ امر کے خلاف کوئی بات نہیں۔ واللہ أعلم۔
حاکم ابو عبد اللہ نے کہا: ابو احمد جلودی ایک صالح اور زاہد شیخ تھے، صوفیہ کے بڑے عبادت گزاروں میں سے تھے۔ اہلِ حقائق کے اکابر مشائخ کی صحبت انہیں حاصل رہی۔ وہ کتابیں نقل کر کے اپنی روزی کماتے تھے اور اپنی محنت ہی کی کمائی کھاتے تھے۔ انہوں نے ابو بکر بن خزیمہ اور ان سے پہلے کے شیوخ سے سماع کیا تھا۔ فقہ میں وہ سفیان ثوری کے مذہب کی طرف میلان رکھتے تھے اور اسے معروف گردانتے تھے۔ ان کا انتقال منگل کے روز، 24 ذوالحجہ 368ھ کو ہوا، اور اس وقت ان کی عمر اسی برس تھی۔ حاکم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی وفات کے ساتھ صحیح مسلم کے سماعی سلسلے کا ایک باب ختم ہو گیا، اور جو شخص ان کے بعد ابراہیم بن محمد بن سفیان یا دوسرے شیوخ سے اس کتاب کی روایت کرے، وہ ثقہ نہیں۔ واللہ أعلم۔
اور جہاں تک جلودی کے شیخ کا تعلق ہے، تو وہ بزرگ سید، ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان نیشاپوری فقیہ زاہد مجتہد، اور عابد ہیں۔ حاکم ابو عبد اللہ بن بیع کہتے ہیں: میں نے محمد بن یزید العدل کو یہ کہتے سنا کہ ابراہیم بن محمد بن سفیان مستجاب الدعوات تھے۔ حاکم کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو بن نجید کو یہ کہتے سنا کہ وہ صالحین میں سے تھے۔ حاکم ہی نے کہا: ابراہیم بن سفیان عبادت گزار اور نہایت مجتہدانہ زندگی رکھنے والوں میں سے تھے، اور امام مسلم بن حجاج کے لازم صحبت اصحاب میں تھے۔ وہ ایوب بن حسن زاہد کے اصحاب میں سے بھی تھے، جو صاحبِ رائے، یعنی حنفی فقیہ تھے۔ ابراہیم بن سفیان نے حجاز، نیشاپور، رے اور عراق میں سماع کیا تھا۔ خود ابراہیم کہتے ہیں: امام مسلم نے رمضان سنہ 257ھ میں ہمارے سامنے اس کتاب کی قراءت مکمل کی۔ حاکم کہتے ہیں: ابراہیم کا انتقال رجب سنہ 308ھ میں ہوا۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔
اور جہاں تک ابراہیم بن محمد بن سفیان کے شیخ کا تعلق ہے، تو وہ امام مسلم، صاحبِ کتاب ہیں۔ ان کا پورا نام ابو الحسین مسلم بن حجاج بن مسلم قشیری ہے۔ نسب کے اعتبار سے قشیری، وطن کے اعتبار سے نیشاپوری، اور خالص عرب تھے۔ وہ اس فن کے اکابر ائمہ میں سے ایک، اس کے نمایاں افراد میں شمار کیے جاتے تھے، حفظ و اتقان میں بلند مقام رکھتے تھے، اور اس علم کے حصول کے لیے مختلف بلاد و امصار کے ائمہ کی طرف سفر کرنے والوں میں سے تھے۔ اہلِ فن اور اصحابِ معرفت کے نزدیک اس میدان میں ان کا تقدّم مسلم تھا اور اس میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ ہر زمانے میں ان کی کتاب کی طرف رجوع کیا گیا اور اسی پر اعتماد کیا گیا۔ انہوں نے خراسان میں یحییٰ بن یحییٰ، اسحاق بن راہویہ اور دوسرے بہت سے شیوخ سے سماع کیا: رے میں محمد بن مہران جمال اور ابو غسان وغیرہ سے، عراق میں احمد بن حنبل، عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی اور دوسرے لوگوں سے؛ حجاز میں سعید بن منصور اور ابو مصعب وغیرہ سے؛ مصر میں عمرو بن سواد، حرملہ بن یحییٰ اور بہت سے دوسرے شیوخ سے۔ ان سے روایت کرنے والوں میں ان کے عہد کے بڑے بڑے ائمہ اور حفاظ شامل ہیں، بلکہ ان میں سے بعض ان کے ہم پلہ بھی تھے؛ مثلاً ابو حاتم رازی، موسیٰ بن ہارون، احمد بن سلمہ، ابو عیسیٰ ترمذی، ابو بکر بن خزیمہ، یحییٰ بن صاعد، ابو عوانہ اسفراینی اور اتنے مزید علماء کہ ان کا شمار آسان نہیں۔
امام مسلمؒ نے علمِ حدیث میں بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ ان میں یہ صحیح بھی ہے، جس کے ذریعے اللہ کریم نے مسلمانوں پر احسان فرمایا، اور اسی کے سبب امام مسلم کے لیے روزِ قیامت تک ذکرِ جمیل اور حسنِ ثنا باقی رکھا۔ ان کی دوسری کتابوں میں المسند الکبیر علی أسماء الرجال، الجامع الکبیر علی الأبواب، العلل، أوهام المحدثين، التمييز، من ليس له إلا راو واحد، طبقات التابعين، المخضرمين اور اس کے سوا اور بھی بہت سی کتابیں شامل ہیں۔
حاکم ابو عبد اللہ کہتے ہیں: ہم سے ابو الفضل محمد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ میں نے احمد بن سلمہ کو کہتے سنا: میں نے ابو زرعہ اور ابو حاتم کو دیکھا کہ وہ صحیح کی معرفت میں امام مسلم بن حجاج کو اپنے زمانے کے تمام مشائخ پر مقدم رکھتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ حدیث کی معرفت میں بھی انہیں سب پر مقدم رکھتے تھے۔
میں کہتا ہوں: جو شخص صحیح مسلمؒ میں دقیق نظر کرے، اور ان کی اسانید، ان کی ترتیب، ان کے حسنِ سیاق، ان کے منفرد طرزِ بیان، ان کی تحقیق کے نادر پہلو، تدقیق کے جواہر، روایت میں ان کی ورع، احتیاط اور تحری، مختلف طرق کے اختصار و تلخیص، منتشر روایات کے ضبط، اور ان کے ہمہ گیر علم و کثرتِ روایت پر غور کرے، اور اس کے علاوہ اس کتاب میں موجود ظاہری و خفی محاسن، لطائف اور عجائب پر نگاہ ڈالے، تو اسے یقین ہو جائے گا کہ وہ ایسے امام ہیں کہ بعد کے لوگوں میں کوئی ان کی گرد کو نہیں پہنچا، اور ان کے اپنے زمانے میں بھی کم ہی لوگ تھے جو ان کے برابر یا ان کے قریب پہنچتے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
میں نے ان کے احوال میں اسی قدر پر اکتفا کیا ہے، کیونکہ ان کے مناقب اور اوصاف نہ پورے احاطے میں آ سکتے ہیں اور نہ ان کا شمار ممکن ہے۔ جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے، وہ انہی کے حسنِ طریق کی طرف ایک اشارتاً رہنمائی ہے، اور اسی سے وہ باتیں بھی سمجھ میں آ جاتی ہیں جنہیں میں نے اختصار کی خاطر چھوڑ دیا ہے۔ میں اللہ کریم سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کے اجر کو خوب بڑھائے، اور اپنے فضل، جود، لطف اور رحمت کی وجہ سے ہمیں ہمارے محبوبوں کے ساتھ اپنی دارِ کرامت میں ان کے ہمراہ جمع فرمائے۔ میں پہلے ہی یہ طے کر چکا تھا کہ اختصار کو اختیار کروں گا اور اس اکتا دینے والے طویل کلام سے بچوں گا ۔
امام مسلمؒ کا انتقال نیشاپور میں 261ھ میں ہوا۔ حاکم ابو عبد اللہ بن بیع نے اپنی کتاب المزکین لرواة الأخبار میں لکھا ہے: میں نے ابو عبد اللہ بن اخرم حافظؒ کو یہ کہتے سنا کہ امام مسلم بن حجاجؒ کا انتقال اتوار کی شام کو ہوا، اور انہیں پیر کے روز، رجب کے پانچ دن باقی تھے، سنہ 261ھ میں دفن کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر پچپن برس تھی۔ اللہ ان پر رحمت فرمائے۔
نوٹ: یہ ترجمہ علمی استفادے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی مقام پر ترجمے یا مفہوم سے متعلق اصلاح کی ضرورت محسوس ہو تو مطلع فرمائیں۔
Comments
Post a Comment