Skip to main content

شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، 1 علمِ حدیث کی اہمیت اور مقام

 

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہمارے شیخ، امام، عالم، زاہد اور صاحبِ ورع محی الدین یحییٰ بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن حزام النووی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو کرم فرمانے والا، بے حد عطا کرنے والا ہے، جس کی نعمتیں شمار و حساب سے بلند ہیں، جو لطف و ہدایت کا خالق ہے، جو راہِ راست کی طرف ہدایت دینے والا ہے، جو اپنے کرم سے درست اور سیدھی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے، اور جس نے اپنے حبیب و خلیل، اپنے بندے اور رسول کی سنت کی نگہداشت کا خاص اہتمام فرما کر بندوں پر احسان کیا۔ آپ پر، اور اللہ کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے اپنے لطف سے نوازا، اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔

اسی رب کریم نے اس امت کو--اللہ اس کے شرف میں مزید اضافہ فرمائے-- علمِ اسناد کی خصوصیت عطا فرمائی، ایک ایسا علم جس میں پے در پے زمانوں اور مسلسل ادوار کے گزرنے کے باوجود کوئی دوسری امت اس کی شریک نہیں ہو سکی۔ اسی نے اس پاکیزہ، معزز اور مطہر سنت کی حفاظت کے لیے حفاظ اور نقاد اہلِ علم کے خاص گروہ کھڑے کیے، اور انہیں ہر زمانے اور ہر خطے میں اس سنت کے دفاع کے لیے مقرر فرمایا۔ یہ حضرات اپنی پوری طاقت اس بات میں صرف کرتے رہے کہ حدیث کے طرق میں صحت اور فساد کو واضح کریں، تاکہ اس میں نہ کوئی کمی داخل ہو اور نہ کوئی اضافہ، اور تاکہ یہ سنت اس امت کے لیے، اللہ اس کے شرف میں اضافہ فرمائے، قیامت کے دن تک محفوظ رہے۔

یہ اہلِ علم اس سنت کے معانی میں تفقہ حاصل کرنے، اس سے احکام اور لطائف نکالنے، اور اس کے وجوہ و مطالب کو پوری سنجیدگی اور اجتہاد کے ساتھ واضح کرنے میں اپنی تمام کوششیں صرف کرتے رہے۔ وہ جماعتوں کی صورت میں بھی اور انفرادی طور پر بھی اس خدمت میں مصروف رہے۔ اللہ کے فضل و لطف سے ہر دور میں ایسے گروہ موجود رہے ہیں جو اس ذمہ داری کو ادا کرتے رہے، اور دنیا کے خاتمے اور آخرت کے آنے تک یہ سلسلہ باقی رہے گا، اگرچہ کبھی ان کی تعداد کم ہو جائے، ان کے شہر غیر خالی ہو جائیں، اور بظاہر وہ ختم ہوتے ہوئے محسوس ہوں۔

میں اللہ کی حمد کرتا ہوں، اس کی نعمتوں پر کامل ترین حمد، خصوصاً اسلام کی نعمت پر، اور اس نعمت پر کہ اس نے ہمیں اولین و آخرین کی بہترین امت، اور سابقین و لاحقین کے سب سے زیادہ معزز فرد، محمد، اپنے بندے، رسول، حبیب اور خلیل کی امت میں شامل فرمایا۔ آپ خاتم النبیین ہیں، شفاعتِ عظمیٰ، لواءِ حمد اور مقامِ محمود کے اہل ہیں، رسولوں کے سردار ہیں، اور اس روشن و باقی معجزے کے ساتھ خاص کیے گئے ہیں جو زمانوں کے بدلنے کے باوجود قائم ہے، جس کے ذریعے آپ نے فصاحت کے سب سے بڑے اہلِ زمانہ کو چیلنج کیا، معارضین کو عاجز کر دیا، اور معاندین کی رسوائی ظاہر کر دی۔ یہ معجزہ ملحدین کی تحریف سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ میری مراد قرآنِ عزیز ہے، ہمارے رب کا کلام، جسے روح الامین نے آپ کے قلب پر نازل کیا، تاکہ آپ صاف عربی زبان میں ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

آپ کو اس کے علاوہ بھی ایک ہزار سے زائد معجزات عطا کیے گئے۔ آپ کو جامع کلمات، شریعت کی آسانی، اور پچھلی امتوں کے بوجھ اتار دینے کی نعمت سے سرفراز کیا گیا۔ آپ کی امت کو--اللہ اس کے شرف میں اضافہ فرمائے-- سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی۔ آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تمام موجود قرون میں بہترین قرن قرار دیا گیا، اور معتبر علمائے مسلمین کے نزدیک ان سب کی عدالت قطعی ہے۔ آپ کی امت کے اجماع کو کتابِ مبین کی طرح قطعی حجت بنایا گیا، اور آپ کے صحابہ کے وہ اقوال بھی، جو پھیل گئے ہوں  مگر ان کی مخالفت نہیں ہوئی، محقق علمائے کرام کے نزدیک حجت قرار پائے۔

آپ کی امت کو--اللہ اس کے شرف میں اضافہ فرمائے-- یہ خاص امتیاز بھی دیا گیا کہ اس کے اندر آپ کی شریعت کی حفاظت، تدوین اور نقل کے لیے غیر معمولی محرکات و داعیات پیدا کیے گئے۔ یہ شریعت حفاظِ مسندین سے نقل کی گئی، ماہر اور متقی اہلِ علم سے اخذ کی گئی، طالبینِ ہدایت کے لیے اس کی توضیح میں کوششیں کی گئیں، رب العالمین کی رضا کے لیے اسے مسلسل پڑھایا گیا، اور واضح دلائل کے ذریعے آپ کے منہاج کا بھرپور دفاع کیا گیا، نیز ملحدین اور مبتدعین کا رد کیا گیا۔ آپ پر، تمام انبیاء پر، ان سب کے آل و اصحاب پر، تابعین پر، اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہوں۔ اللہ ہمیں آپ کے اقوال، افعال اور تمام احوال میں دائمی، مخلصانہ اور پیہم اقتدا کی توفیق عطا فرمائے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ اس کی وحدانیت کا اقرار ہے اور اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ تمام مخلوق پر اس کی ربوبیت کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا واجب ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اس کی مخلوق میں سے برگزیدہ ہیں، رسالتِ عامہ کے ساتھ خاص کیے گئے ہیں، اور ان کی امت کو فضیلت عطا کی گئی ہے۔ آپ پر، آپ کی آل، آپ کے اصحاب اور آپ کی عترت پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہوں۔

اما بعد، علم میں مشغول ہونا قربِ الٰہی کے بہترین ذرائع، اطاعت کی بلند ترین صورتوں، خیر کے اہم ترین مظاہر، اور عبادت کی مؤکد ترین اقسام میں سے ہے۔ بہترین اوقات اسی راہ میں صرف کیے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ پاکیزہ نفوس رکھنے والوں کو چاہیے کہ اس کے حصول اور اس میں پختگی کے لیے کمر بستہ ہوں۔ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے اسی فضیلت کی طرف بڑھیں، اور مکارم و کمالات کی طرف لپکنے والوں کو چاہیے کہ اس زینت سے اپنے آپ کو آراستہ کریں۔

اس مفہوم کی تائید قرآن مجید کی بہت سی آیات، صحیح اور مشہور احادیث، اور سلف صالحین رضی اللہ عنہم کے روشن اقوال سے ہوتی ہے۔ یہاں ان سب کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ باتیں نہایت واضح اور مشہور ہیں۔ علوم کی اہم ترین اقسام میں سے ایک قسم احادیثِ نبویہ کی تحقیق و معرفت ہے، یعنی ان کے متون کی معرفت: کون سی حدیث صحیح ہے، کون سی حسن ہے، کون سی ضعیف ہے، کون سی متصل، مرسل، منقطع، معضل، مقلوب، مشہور، غریب، عزیز، متواتر، آحاد، افراد، معروف، شاذ، منکر، معلل، موضوع، مدرج، ناسخ، منسوخ، خاص، عام، مجمل، مبین، مختلف ہے، اور اس کے علاوہ حدیث کی دوسری معروف اقسام کیا ہیں۔

اسی طرح علمِ اسناد کی معرفت بھی ضروری ہے۔ اس سے مراد رواۃ کے احوال، ان کی معتبر صفات، ان کے ناموں اور نسبوں کا ضبط، ان کی ولادت اور وفات کی تاریخ، اور ان سے متعلق دوسری ضروری معلومات کا علم ہے۔ اسی میں تدلیس اور مدلسین کی معرفت، اعتبار اور متابعات کے طرق، اسناد اور متون میں رواۃ کے اختلافات، وصل و ارسال، وقف و رفع، قطع و انقطاع، ثقہ رواۃ کی زیادات، صحابہ، تابعین، اتباعِ تابعین، تبع اتباعِ تابعین، اور ان کے بعد آنے والے اہلِ علم کی معرفت بھی شامل ہے۔ اللہ ان سب سے اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں سے راضی ہو۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ ہماری شریعت کی بنیاد کتابِ عزیز اور مروی سنن پر ہے، اور فقہی احکام کی بڑی تعداد کا مدار سنن ہی پر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فروعی احکام سے متعلق اکثر آیات اجمالی ہیں، اور ان کی توضیح و تفصیل محکم احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قاضی اور مفتی میں اجتہاد کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ احکام سے متعلق احادیث کا عالم ہو۔ اس سے وہ بات ثابت ہو جاتی ہے جو ہم نے بیان کی کہ حدیث میں مشغول ہونا بلند ترین علوم، خیر کی افضل ترین اقسام، اور قربِ الٰہی کے مؤکد ترین ذرائع میں سے ہے۔

اور ایسا کیوں نہ ہو، جب کہ یہ علم، ان سب باتوں کے ساتھ جن کا ہم نے ذکر کیا، مخلوقات میں سب سے افضل ہستی کے احوال کے بیان پر مشتمل ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی بہترین رحمتیں، سلامتی اور برکتیں ہوں۔ پچھلے زمانوں میں علما کی بڑی توجہ حدیث ہی کی طرف رہی ہے، یہاں تک کہ حدیث کی ایک ایک مجلس میں طلبہ کے ہزاروں مجمع جمع ہو جایا کرتے تھے۔ پھر یہ سلسلہ کمزور پڑ گیا، ہمتیں پست ہو گئیں، اور اب ان کے آثار میں سے صرف چند نشانیاں باقی رہ گئی ہیں۔ اس مصیبت اور دوسری تمام آزمائشوں میں اللہ ہی مددگار ہے۔

مردہ سنن کو زندہ کرنے کی فضیلت میں بہت سی معروف اور مشہور احادیث وارد ہوئی ہیں۔ لہٰذا علمِ حدیث کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے، اور اس کی ترغیب دینی چاہیے، ان دلائل کی بنا پر بھی جن کا ہم نے ذکر کیا، اور اس بنا پر بھی کہ یہ اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے ائمہ، اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے ساتھ خیر خواہی میں داخل ہے۔ یہی دین ہے، جیسا کہ سید المخلوقات سے صحیح حدیث میں ثابت ہے۔ آپ پر، آپ کی آل، آپ کے اصحاب، آپ کی اولاد، اور آپ کی پاکیزہ ازواج پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہوں۔

کسی کہنے والے نے خوب کہا ہے کہ جس نے حدیث کے آلات و وسائل جمع کر لیے، اس کا دل روشن ہو گیا، اور وہ اس کے مخفی خزانوں تک پہنچ گیا۔ یہ اس لیے کہ اس علم کے ظاہر اور پوشیدہ فوائد نہایت کثیر ہیں۔ اور یہ علم اس بات کا بجا طور پر مستحق ہے، کیونکہ یہ اس ہستی کا کلام ہے جو مخلوقات میں سب سے زیادہ فصیح تھی، اور جسے جامع کلمات عطا کیے گئے تھے۔ آپ پر پیہم اور ہمیشہ بڑھتی ہوئی رحمتیں نازل ہوں۔

حدیث، بلکہ مطلق علم کی کتابوں میں سب سے صحیح دو صحیح کتابیں ہیں: ایک امامِ مقتدا ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری کی صحیح، اور دوسری ابو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری کی صحیح۔ اللہ ان دونوں سے راضی ہو۔ تصنیفات میں ان دونوں کی کوئی مثال نہیں پائی گئی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کی شرح کا اہتمام کیا جائے، ان کے فوائد کو عام کیا جائے، اور ان کے متون اور اسناد سے باریک علمی نکات نہایت احتیاط اور لطافت کے ساتھ اخذ کیے جائیں، کیونکہ اس کے حق میں روشن دلائل اور مضبوط حجتیں موجود ہیں۔

رہی صحیح بخاری، تو میں نے اس کی شرح میں بہت سے مباحث جمع کیے ہیں، جو مختلف علوم کے نفیس فوائد پر مشتمل ہیں اور مختصر عبارتوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ میں اس کی شرح کا مکمل ارادہ رکھتا ہوں اور اللہ کریم سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اسے مکمل کرنے میں میری مدد فرمائے گا۔

رہی صحیح مسلم، تو میں نے اللہ تعالیٰ، جو کریم، نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے، سے استخارہ کیا کہ میں اس کی شرح پر ایک ایسی کتاب جمع کروں جو اختصار اور بسط کے درمیان متوسط ہو، نہ اتنی مختصر کہ ضروری فوائد رہ جائیں، اور نہ اتنی طویل کہ پڑھنے والے اکتا جائیں۔ اگر ہمتوں کی کمزوری، رغبت رکھنے والوں کی قلت، اور طویل کتابوں کے طالبوں کی کمی کے باعث اس کتاب کے عام نہ ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں اسے اتنا وسیع کر دیتا کہ وہ تکرار اور بے فائدہ اضافوں کے بغیر بھی سو سے زائد جلدوں تک پہنچ جاتی۔ یہ طوالت کسی بے مقصد اضافے کی وجہ سے نہ ہوتی، بلکہ اس کے فوائد کی کثرت، اس کے پوشیدہ اور ظاہر علمی ثمرات کی عظمت، اور اس کی علمی برکتوں کی وسعت کی بنا پر ہوتی۔ اور یہ کتاب اس کی مستحق بھی ہے، کیونکہ اس میں مخلوقات میں سب سے زیادہ فصیح ہستی کا کلام ہے۔ آپ پر دائمی رحمتیں ہوں۔

لیکن میں نے توسط پر اکتفا کیا ہے، اور طویل مباحث سے حتی الامکان اجتناب کروں گا۔ اکثر مقامات پر اختصار کو ترجیح دوں گا۔ اس شرح میں، ان شاء اللہ، میں اس کے روشن علوم میں سے چند جامع مباحث ذکر کروں گا: اصول و فروع کے احکام، آداب، زہد سے متعلق اشارات، شرعی قواعد کے نفیس اصول، لغوی الفاظ کے معانی، رجال کے نام، مشکل الفاظ کا ضبط، کنیتوں سے معروف اشخاص کے نام، ان لوگوں کے نام جنہیں ان کے بیٹوں کی نسبت سے پہچانا گیا ہے (اسماء آباء الابناء)، مبہم اشخاص کی تعیین، اور بعض اوقات بعض رواۃ اور دوسرے مذکور اشخاص کے احوال سے متعلق لطیف نکات۔

اسی طرح میں متون اور اسناد سے حاصل ہونے والے علمِ حدیث کے پوشیدہ لطائف کو بھی بیان کروں گا، ایسے ناموں کا ضبط (spelling) بھی بیان کروں گا جو صورت میں ملتے جلتے مگر تلفظ یا مراد میں مختلف ہیں، اور ان احادیث کے درمیان تطبیق بھی دوں گا جن کے ظاہر میں اختلاف معلوم ہوتا ہے اور جنہیں وہ شخص متعارض سمجھ بیٹھتا ہے جو حدیث، فقہ اور اصولِ فقہ کے فنون میں تحقیق نہیں رکھتا۔

میں ہر حدیث کے تحت جو عملی مسائل اس وقت ذہن میں آئیں گے، ان کی طرف بھی توجہ دلاؤں گا، اور ان سب امور میں دلائل کی طرف مختصر اشارہ کروں گا، سوائے ان مقامات کے جہاں ضرورت کے باعث تفصیل ناگزیر ہو۔ ان تمام مباحث میں میری کوشش یہ ہوگی کہ عبارت مختصر بھی رہے اور واضح بھی۔

جہاں میں رجال، لغت، مشکل الفاظ کے ضبط، احکام، معانی یا دوسری منقول چیزوں سے متعلق کوئی بات نقل کروں گا، اگر وہ مشہور ہو گی تو عموماً اسے قائلین کی طرف منسوب نہیں کروں گا، کیونکہ اسے نقل کرنے والے بہت ہیں، البتہ کبھی کسی مناسب مقصد کے لیے نسبت کر دوں گا۔ اور اگر بات غریب یا کم معروف ہو گی تو اسے اس کے قائل کی طرف منسوب کروں گا، الا یہ کہ کسی جگہ طولِ کلام کے باعث یا اس وجہ سے کہ وہ بات پہلے گزر چکی ہو، اور اس بیان کا ذہول ہو جائے۔

اور جب کوئی حدیث، کوئی نام، کوئی لغوی لفظ یا اس جیسی کوئی چیز بار بار آئے گی، تو میں پہلی جگہ اس کا مقصود تفصیل سے بیان کر دوں گا۔ پھر جب وہی چیز دوسری جگہ آئے گی، تو ذکر کر دوں گا کہ اس کی شرح اور وضاحت فلاں سابقہ باب میں گزر چکی ہے۔ کبھی صرف اتنا کہنے پر اکتفا کروں گا کہ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے، اور کبھی پہلی جگہ کے کافی دور رہ جانے، کلام کے باہمی تعلق، یا کسی اور مطلوب مصلحت کی بنا پر اسے دوبارہ بھی بیان کر دوں گا۔

کتاب کے آغاز میں میں چند مقدمات پیش کروں گا جن سے، ان شاء اللہ تعالیٰ، بڑا نفع حاصل ہوگا اور جن کی طالبینِ تحقیق کو ضرورت پڑتی ہے۔ میں انہیں پے در پے فصلوں میں مرتب کروں گا تاکہ ان کا مطالعہ آسان ہو اور اکتاہٹ سے بچا جا سکے۔

میں اللہ کریم، زمینوں اور آسمانوں کے رب سے مدد، حفاظت، لطف اور رعایت طلب کرتا ہوں۔ میں اس کے حضور عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے، میرے والدین، میرے اساتذہ، میرے تمام قرابت داروں اور دوستوں، اور ان سب لوگوں کو جنہوں نے حسنِ نیت کے ساتھ ہم پر کوئی احسان کیا ہے، اپنی توفیق سے نوازے، ہمارے لیے طاعات کو آسان فرمائے،  ہمیں ہمیشہ ان کی طرف بڑھاتا رہے یہاں تک کہ موت آ جائے۔ ہم پر اپنی رضا، اپنی محبت اور اپنی دائمی اطاعت کا فضل فرمائے،  ہمیں اپنے دارِ کرامت میں جمع فرمائے، اور ہر قسم کی مسرتوں سے نوازے۔

میں اس سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں بھی اس کتاب سے نفع دے، اور ہر اس شخص کو بھی جو اسے پڑھے۔ ہمارے لیے اجر و ثواب کو فراواں فرمائے۔ جو خیر اس نے ہمیں عطا کی ہے اور جس سے ہمیں نوازا ہے، اسے ہم سے چھین نہ لے۔ ان نعمتوں میں سے کسی چیز کو ہمارے لیے آزمائش نہ بنائے، اور ہر اس چیز سے ہمیں محفوظ رکھے جو اس کی رضا کے خلاف ہو۔ بے شک وہ دعاؤں کو قبول کرنے والا، اور بہت عطا فرمانے والا ہے۔

میں نے اللہ ہی سے مضبوطی سے تمسک کرتا ہوں، اور اسی پر بھروسا کرتا ہوں۔ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ اللہ کے بغیر کوئی قوت نہیں۔ اللہ کے سوا نہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی قوت۔ اللہ میرے لیے کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے۔ اسی کے لیے حمد ہے، اسی کا فضل ہے، اسی کا احسان ہے، اسی کی نعمت ہے۔ توفیق، لطف، ہدایت اور حفاظت اسی کے ہاتھ میں ہے۔

نوٹ: یہ ترجمہ علمی استفادے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی مقام پر ترجمے یا مفہوم سے متعلق اصلاح کی ضرورت محسوس ہو تو مطلع فرمائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

English Translation of al-Jahshiyari’s Kitab al-Wuzaraʾ wa al-Kuttab: 2

The Scribes Among The Persians The kings of Persia were exceedingly strict with anyone who forged or engraved a seal resembling the royal seal. They considered such a crime equal to the gravest offenses and punished it accordingly. The Persian kings referred to the letter-writers as “the interpreters ( tarājimah ) of kings.” They used to say to them: “Do not let your desire to make speech concise lead you to omit meanings, abandon proper structure and clarity ( al-iblāgh ) in it or weaken the strength of argument.” It was the established practice in the days of the Persians that the younger generation ( aḥdāth al-kuttāb ) of scribes, and those newly emerging among them, would gather at the palace gates seeking employment. The king would then command the heads of his chancery to test them and examine their intellects. Those found worthy would have their names presented to the king and would be instructed to remain at the gate so they could be called upon when needed. The king w...

شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، ۴ صحیحین کی فضیلت اور ترجیح

-فصل: [صحیحین کی فضیلت اور ترجیح] علماء کرامؒ کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآنِ کریم کے بعد سب سے معتبر اور صحیح کتابیں صحیحین، یعنی امام بخاریؒ کی صحیح اور امام مسلمؒ  کی صحیح ہیں۔ امت سے ان دونوں کتابوں کو قبولیت ملی ہے ۔ البتہ صحیح بخاریؒ ان دونوں میں زیادہ معتبر اور صحیح ہے، اور اس میں ظاہر و خفی فوائدو معارف کی کثرت بھی ہے ۔ یہ بھی واضح ہے کہ امام مسلمؒ خود امام بخاریؒ سے استفادہ کرتے اور اس بات کا اعتراف فرماتے ہیں کہ علمِ حدیث میں ان کی کوئی نظیر نہیں۔ صحیح بخاریؒ کی صحیح مسلمؒ پر ترجیح کا یہ نقطہ نظر جمہور، اہلِ اتقان، اصحابِ حذق، اور دقائقِ حدیث میں غور کرنے والوں کا ہے۔ البتہ ابو علی حسین بن علی نیسابوری حافظ، جو امام حاکم ابو عبد اللہ بن البیع کے شیخ ہیں، نے مسلم کی کتاب کو صحیح تر قرار دیا ہے۔ مغرب کے بعض مشائخ  نے بھی ان کی موافقت کی ہےاور صحیح مسلمؒ کو افضل کہا ہے۔  مگر درست اور صائب پہلی رائے ہے۔  امام حافظ، فقیہ، اور ناقد ابو بکر اسماعیلیؒ نے اپنی کتاب المدخل میں بخاریؒ کی ترجیح کے مضبوط دلائل بیان کیے ہیں۔ ہمارے سامنے امام ابو عبد الرحمن نسائیؒ کی روایت آئی...

شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، ۳ صحیح مسلمؒ کی شہرت اور اس کے طرقِ روایت

 :۔ فصل:[ صحیح مسلمؒ کی شہرت اور اس کے طرقِ روایت] [ صحیح مسلمؒ کا تواتر اور انتساب] صحیح مسلمؒ کی شہرت انتہائی درجے کو پہنچی ہوئی ہے، اور اجمالی اعتبار سے یہ کتاب امام مسلمؒ سے تواتر کے درجے میں ثابت ہے۔ اس لیے اس امر کا قطعی علم حاصل ہے کہ یہ ابو الحسین مسلم بن الحجاجؒ ہی کی تصنیف ہے۔ البتہ جہاں تک متصل اسناد کے ساتھ امام مسلمؒ تک پہنچنے والی روایت کا تعلق ہے، تو ہمارے بلاد اور ادوار میں اس کا سلسلہ عملاً ایک ہی طریق پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے، اور وہ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان کی امام مسلمؒ سے روایت ہے۔ [مشرق اور مغرب میں روایت کے معروف طریق ] بلادِ مغرب میں اس کے ساتھ ساتھ ابو محمد احمد بن علی القلانسی کی روایت بھی امام مسلمؒ سے منقول ہے۔ ابن سفیان سے اس کتاب کو ایک جماعت نے روایت کیا، جن میں جلودی بھی شامل ہیں۔ جلودی سے بھی ایک جماعت نے اسے روایت کیا، جن میں فارسی ہیں۔ فارسی سے بھی ایک جماعت نے روایت کیا، جن میں فراوی ہیں۔ فراوی سے بھی بہت سے لوگوں نے روایت کیا، جن میں منصور ہیں۔ اور منصور سے بھی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا، جن میں ہمارے شیخ ابو اسحاق شامل ہیں۔ شیخ، امام،...