:۔ فصل:[ صحیح مسلمؒ کی شہرت اور اس کے طرقِ روایت]
[صحیح مسلمؒ کا تواتر اور انتساب]
صحیح مسلمؒ کی شہرت انتہائی درجے کو پہنچی ہوئی ہے، اور اجمالی اعتبار سے یہ کتاب امام مسلمؒ سے تواتر کے درجے میں ثابت ہے۔ اس لیے اس امر کا قطعی علم حاصل ہے کہ یہ ابو الحسین مسلم بن الحجاجؒ ہی کی تصنیف ہے۔ البتہ جہاں تک متصل اسناد کے ساتھ امام مسلمؒ تک پہنچنے والی روایت کا تعلق ہے، تو ہمارے بلاد اور ادوار میں اس کا سلسلہ عملاً ایک ہی طریق پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے، اور وہ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان کی امام مسلمؒ سے روایت ہے۔
[مشرق اور مغرب میں روایت کے معروف طریق]
بلادِ مغرب میں اس کے ساتھ ساتھ ابو محمد احمد بن علی القلانسی کی روایت بھی امام مسلمؒ سے منقول ہے۔ ابن سفیان سے اس کتاب کو ایک جماعت نے روایت کیا، جن میں جلودی بھی شامل ہیں۔ جلودی سے بھی ایک جماعت نے اسے روایت کیا، جن میں فارسی ہیں۔ فارسی سے بھی ایک جماعت نے روایت کیا، جن میں فراوی ہیں۔ فراوی سے بھی بہت سے لوگوں نے روایت کیا، جن میں منصور ہیں۔ اور منصور سے بھی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا، جن میں ہمارے شیخ ابو اسحاق شامل ہیں۔
شیخ، امام، حافظ ابو عمرو ابن الصلاحؒ لکھتے ہیں: قلانسی کی روایت اہلِ مغرب ہی میں رائج ہوئی، اور ان کے سوا دوسروں کے ہاں ان کی روایت معروف نہیں۔ یہ روایت ان تک ابو عبد اللہ محمد بن یحییٰ بن الحذّاء التمیمی القرطبی اور دوسرے لوگوں کے واسطے سے پہنچی، جنہوں نے اسے مصر میں ابو العلاء عبد الوہاب بن عیسیٰ بن عبد الرحمن بن ماہان البغدادی سے سنا۔ انہوں نے کہا: ہم سے ابو بکر احمد بن محمد بن یحییٰ الاشقر، جو فقہاً شافعی تھے، نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم سے ابو محمد القلانسی نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم سے امام مسلمؒ نے روایت کیا، سوائے کتاب کے آخری حصے کے تین اجزاء کے، جن کی ابتدا طویل حدیثِ افک سے ہوتی ہے، کیونکہ ابو العلاء بن ماہان اس حصے کو ابو احمد الجلودی، عن ابی سفیان، عن مسلمؒ کے طریق سے روایت کیا کرتے تھے۔
فصل: [جلودی کی روایت کے صیغے]
["حدّثنا" اور "أخبرنا" کا اختلاف]
شیخ، امام، حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن، المعروف بابن الصلاحؒ فرماتے ہیں: جلودی کی ابراہیم بن سفیان سے روایت کے الفاظ میں نسخوں کے اندر اختلاف ہے کہ آیا وہاں "حدّثنا إبراهيم" ہے یا "أخبرنا إبراهيم"۔ اور اس میں بھی تردد ہے کہ انہوں نے ابراہیم سے یہ روایت لفظاً سنی تھی یا ان پر یہ کتاب پڑھ کر سنائی تھی۔
[احتیاط کا تقاضا]
لہٰذا زیادہ محتاط صورت یہ ہے کہ "أخبرنا إبراهيم" اور "حدّثنا إبراهيم" دونوں طرح ادا کیا جائے، اور قاری ان دونوں کو بدل کے طور پر پڑھے۔ پھر انہوں نے فرمایا: ہمارے لیے صرف "أخبرنا" پر اکتفا کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ یہی الفاظ میں نے فراوی کی روایت میں ان کے شاگرد عبد الرزاق الطبسی کے قلم سے منقول پائے ہیں، اور نیشاپور میں بھی کتاب کے ایک ایسے نسخے میں، جس میں ہمارے شیخ مؤید کا سماع درج تھا، یہی صورت دیکھی ہے۔ اسی طرح یہی الفاظ حافظ ابو القاسم الدمشقی العساکری کی تحریر میں بھی فراوی سے منقول ہیں، اور دیگر مقامات پر بھی یہی صورت پائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ جس روایت میں اس قسم کا تردد ہو، اس میں "أخبرنا" اختیار کرنا ہی مناسب ہے، کیونکہ ہر تحدیث حقیقت کے اعتبار سے ایک طرح کی اِخبار ہے، اگرچہ ہر اِخبار تحدیث نہیں ہوتی۔
فصل:[ ابراہیم بن سفیان کے فائت مقامات]
[فائت کا مفہوم]
شیخ، امام، ابو عمرو ابن الصلاحؒ نے فرمایا: جان لو کہ ابراہیم بن سفیان کی صحیح مسلم کی روایت کے بعض حصوں میں "فائت" موجود ہیں، یعنی انہوں نے وہ حصہ امام مسلمؒ سے سماعاً نہیں سنا۔ اس لیے ان مقامات میں یوں کہا جائے گا: "أخبرنا إبراهيم عن مسلم"، اور یہ کہنا درست نہیں ہوگا: "أخبرنا مسلم" یا "حدّثنا مسلم"۔ ابراہیم بن سفیان کی ان حصوں میں امام مسلمؒ سے روایت یا تو بطریقِ اجازہ ہے یا بطریقِ وجادہ۔ اکثر رواۃ نے اپنی فہارس، تسمیعات، اجازات اور دوسرے مقامات میں اس فرق کی تنقیح اور وضاحت سے غفلت برتی ہے، بلکہ پورے کتاب میں یکساں طور پر یہ کہہ دیا ہے: "أخبرنا إبراهيم، قال: أخبرنا مسلم"۔
یہ فوات تین مقامات میں یقینی طور پر ثابت ہے، اور وہ معتبر اصولی نسخوں میں محفوظ ہیں۔
[پہلا فائت]
ان میں پہلا مقام کتاب الحج میں باب الحلق والتقصير کے تحت ابن عمرؓ کی وہ روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرمائے"۔ یہ روایت ابن نمیر کے طریق سے ہے۔ میں نے حافظ ابو القاسم الدمشقی کے اصل نسخے میں، جو ان کے اپنے قلم سے تھا، یہ الفاظ دیکھے: "أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن سفيان، عن مسلم، قال: حدّثنا ابن نمير..." الحدیث۔ اسی طرح حافظ ابو عامر العبدری کے قلم والے ایک اصل نسخے میں بھی یہی صورت تھی، البتہ وہاں "حدّثنا أبو إسحاق" لکھا ہے۔ اور میں نے ایک قدیم نسخے میں، جو ابو احمد الجلودی سے ماخوذ تھا، یہ عبارت دیکھی: "من ها هنا قرأت على أبي أحمد: حدّثكم إبراهيم عن مسلم"۔ اور یہی طریق تحدیث ان کی کتاب مین اس علامت تک قائم ہے۔
شیخؒ نے فرمایا: یہ علامت تقریباً آٹھ ورق یا اس کے آس پاس کے بعد آتی ہے، ابن عمرؓ کی اس حدیث کے آغاز پر کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کے لیے اپنی سواری پر بیٹھتے تو تین مرتبہ تکبیر کہتے۔ جلودی سے ماخوذ نسخے میں اس مقام پر یہ الفاظ تھے: "إلى هنا قرأت عليه"، یعنی یہاں تک میں نے جلودی کے سامنے قراءت کی ، "ومن هنا قال: حدّثنا مسلم" یعنی یہاں سے راوی حدثنا مسلم کہتا ہے۔ اور حافظ ابو القاسم کے نسخے میں ان کے قلم سے یہ لکھا تھا: "من هنا يقول: حدّثنا مسلم، وإلى هنا شكّ"، یعنی یہاں سے آگے محدث کہے گا: حدثنا مسلم۔ البتہ یہاں تک شک ہے۔
[دوسرا فائت]
ابراہیم بن سفیان کا دوسرا فوات کتاب الوصايا کے شروع سے ہے، جہاں امام مسلمؒ کا قول آتا ہے: "حدّثنا أبو خيثمة زهير بن حرب ومحمد بن المثنى واللفظ لمحمد بن المثنى..."، اور یہ ابن عمرؓ کی حدیث "ما حق امرئ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ..." سے شروع ہو کر اُس مقام تک پہنچتا ہے جہاں قسامہ میں حویصہ اور محیصہ کے قصے کے ضمن میں یہ روایت ختم ہوتی ہے: "حدّثني إسحاق بن منصور، أخبرنا بشر بن عمرو، قال: سمعت مالك بن أنس..."۔ یہ حصہ تقریباً دس اوراق پر مشتمل ہے۔ جلودی سے ماخوذ نسخے اور حافظ ابو عامر العبدری کے خط والے نسخے میں اس فوات کے اختتام کا ذکر اسی آخری حدیث کے آغاز پر کیا گیا ہے، اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کے بعد ابراہیم کا قول پھر "حدّثنا مسلم" کے ساتھ لوٹ آتا ہے۔ جبکہ حافظ ابو القاسم الدمشقی کے نسخے میں کچھ تردد پایا جاتا ہے کہ آیا یہ آخری حدیث اس فوات میں داخل ہے یا نہیں، لیکن اعتماد پہلے قول ہی پر ہے، یعنی یہ حدیث بھی فوات میں داخل ہے۔
[تیسرا فائت]
ابراہیم بن سفیان کا تیسرا فوات اُن احادیث سے شروع ہوتا ہے جو کتاب الإمارة والخلافة میں امام مسلمؒ کے اس قول سے آغاز پذیر ہیں: "حدّثني زهير بن حرب، حدّثنا شبابة حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: "إنما الإمام جُنّة"۔ یہ سلسلہ کتاب الصيد والذبائح میں امام مسلمؒ کے اس قول تک جاتا ہے: "حدّثنا محمد بن مهران الرازي، حدّثنا أبو عبد الله حمّاد بن خالد الخياط حديث أبي ثعلبة الخشنى اذا رميت سهمك"۔ اسی حدیث کے آغاز سے پھر ابراہیم کی روایت "حدّثنا مسلم" کے الفاظ کی طرف لوٹ آتی ہے۔ یہ تینوں فوات میں سب سے بڑا ہے، اور تقریباً اٹھارہ ا وراق پر مشتمل ہے۔
اس کے آغاز پر حافظ کبیر ابو حازم العبدری النیشاپوری کے قلم سے، جو یہ کتاب محمد بن یزید العدل کے واسطے سے ابراہیم سے روایت کرتے تھے، یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: "من هنا يقول إبراهيم: قال مسلم"۔ البتہ یہ روایت جلودی سے ماخوذ نسخے، ابو عامر العبدری کے نسخے، اور ابو القاسم الدمشقی کے نسخے میں لفظ "عن" کے ساتھ موجود ہے۔ پچھلے فوات کے بارے میں بھی ان نسخوں میں یہی صورت ملتی ہے۔ اس سے یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حصہ امام مسلمؒ سے بطریقِ وجادہ مروی ہو، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اجازہ کے ذریعے ہو۔ البتہ بعض نسخوں میں صراحت موجود ہے کہ ان میں سے بعض یا سب حصہ امام مسلمؒ سے بطریقِ اجازہ ہی منقول ہے۔ واللہ أعلم۔ یہاں شیخؒ کا کلام ختم ہوتا ہے۔
فصل: [متأخرین کے دور میں اسناد سے مقصود]
[اسناد کے باقی رکھنے کی اصل غرض]
شیخ، امام، ابو عمرو ابن الصلاحؒ نے فرمایا: جان لو کہ ہمارے زمانے میں، بلکہ ہم سے پہلے کے بہت سے زمانوں میں بھی، متصل اسناد کے ساتھ روایت کرنے کا اصل مقصد یہ نہیں رہا کہ ان کے ذریعے منقول روایت کے ثبوت کو متحقق کیا جائے، کیونکہ ان اسناد میں کوئی نہ کوئی ایسا شیخ ضرور آجاتا ہے جسے خود یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا روایت کر رہا ہے، یا وہ اپنے پاس موجود نسخے کے متن کو اس درجے درستی سے پڑھ نہیں سکتا کہ اس پر ثبوت کے باب میں اعتماد کیا جا سکے۔ دراصل اب ان اسناد کا اصل مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ اس سلسلۂ اسناد کو باقی رکھا جائے جو صرف اس امت کا خاصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو مزید شرف عطا فرمائے۔
[کتب حدیث سے استدلال کا درست طریق]
جب معاملہ یہ ہو، تو جو شخص صحیح مسلمؒ یا اس جیسی کسی دوسری کتاب کی حدیث سے استدلال کرنا چاہے، اس کے لیے مناسب طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ایسے نسخے سے نقل کرے جو دو ثقہ آدمیوں کے ذریعے متعدد صحیح نسخوں پر مبنی ہو، جو مختلف روایتی طرق سے منقول ہوں، تاکہ ان کتابوں کی شہرت، اور ان میں قصداً تحریف و تبدیل کے بعید ہونے کے ساتھ، ان متعدد نسخوں کے باہمی اتفاق سے متن کی صحت پر اطمینان کامل حاصل ہو جائے۔ بسا اوقات ایسے نسخوں کی کثرت تواتر یا کم از کم استفاضہ کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔
[ایک آخری توضیح]
یہ شیخ کا کلام ہے۔ تاہم انہوں نے جو کچھ فرمایا ہے، اسے استحباب اور مزید احتیاط پر محمول کیا جائے گا، ورنہ اصول اور روایات کی کثرت شرط نہیں ہے۔ ایک صحیح اور معتبر نسخہ کافی ہے، اور اسی کے ساتھ مقابلہ کر لینا بھی کفایت کرتا ہے۔ واللہ أعلم۔
Comments
Post a Comment