Skip to main content

Posts

شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، ۴ صحیحین کی فضیلت اور ترجیح

-فصل: [صحیحین کی فضیلت اور ترجیح] علماء کرامؒ کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآنِ کریم کے بعد سب سے معتبر اور صحیح کتابیں صحیحین، یعنی امام بخاریؒ کی صحیح اور امام مسلمؒ  کی صحیح ہیں۔ امت سے ان دونوں کتابوں کو قبولیت ملی ہے ۔ البتہ صحیح بخاریؒ ان دونوں میں زیادہ معتبر اور صحیح ہے، اور اس میں ظاہر و خفی فوائدو معارف کی کثرت بھی ہے ۔ یہ بھی واضح ہے کہ امام مسلمؒ خود امام بخاریؒ سے استفادہ کرتے اور اس بات کا اعتراف فرماتے ہیں کہ علمِ حدیث میں ان کی کوئی نظیر نہیں۔ صحیح بخاریؒ کی صحیح مسلمؒ پر ترجیح کا یہ نقطہ نظر جمہور، اہلِ اتقان، اصحابِ حذق، اور دقائقِ حدیث میں غور کرنے والوں کا ہے۔ البتہ ابو علی حسین بن علی نیسابوری حافظ، جو امام حاکم ابو عبد اللہ بن البیع کے شیخ ہیں، نے مسلم کی کتاب کو صحیح تر قرار دیا ہے۔ مغرب کے بعض مشائخ  نے بھی ان کی موافقت کی ہےاور صحیح مسلمؒ کو افضل کہا ہے۔  مگر درست اور صائب پہلی رائے ہے۔  امام حافظ، فقیہ، اور ناقد ابو بکر اسماعیلیؒ نے اپنی کتاب المدخل میں بخاریؒ کی ترجیح کے مضبوط دلائل بیان کیے ہیں۔ ہمارے سامنے امام ابو عبد الرحمن نسائیؒ کی روایت آئی...

شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، ۳ صحیح مسلمؒ کی شہرت اور اس کے طرقِ روایت

 :۔ فصل:[ صحیح مسلمؒ کی شہرت اور اس کے طرقِ روایت] [ صحیح مسلمؒ کا تواتر اور انتساب] صحیح مسلمؒ کی شہرت انتہائی درجے کو پہنچی ہوئی ہے، اور اجمالی اعتبار سے یہ کتاب امام مسلمؒ سے تواتر کے درجے میں ثابت ہے۔ اس لیے اس امر کا قطعی علم حاصل ہے کہ یہ ابو الحسین مسلم بن الحجاجؒ ہی کی تصنیف ہے۔ البتہ جہاں تک متصل اسناد کے ساتھ امام مسلمؒ تک پہنچنے والی روایت کا تعلق ہے، تو ہمارے بلاد اور ادوار میں اس کا سلسلہ عملاً ایک ہی طریق پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے، اور وہ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان کی امام مسلمؒ سے روایت ہے۔ [مشرق اور مغرب میں روایت کے معروف طریق ] بلادِ مغرب میں اس کے ساتھ ساتھ ابو محمد احمد بن علی القلانسی کی روایت بھی امام مسلمؒ سے منقول ہے۔ ابن سفیان سے اس کتاب کو ایک جماعت نے روایت کیا، جن میں جلودی بھی شامل ہیں۔ جلودی سے بھی ایک جماعت نے اسے روایت کیا، جن میں فارسی ہیں۔ فارسی سے بھی ایک جماعت نے روایت کیا، جن میں فراوی ہیں۔ فراوی سے بھی بہت سے لوگوں نے روایت کیا، جن میں منصور ہیں۔ اور منصور سے بھی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا، جن میں ہمارے شیخ ابو اسحاق شامل ہیں۔ شیخ، امام،...

شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، ۲ اس کتاب کی اسناد اور امام نووی اور امام مسلمؒ کے درمیان واقع رواۃ کے احوال کا مختصر بیان

فصل:   اس کتاب کی اسناد اور ہمارے اور امام مسلمؒ کے درمیان واقع رواۃ کے احوال کا مختصر بیان: جہاں تک اس کتاب میں میری سند کا تعلق ہے، تو مجھے امام مسلم بن حجاجؒ کی پوری صحیح جامعِ دمشق میں شیخِ امین، عادل اور مرضیّ، ابو اسحاق ابراہیم بن ابی حفص عمر بن مضر الواسطیؒ نے روایت کی۔ اللہ تعالیٰ دمشق، تمام بلادِ اسلام اور ان کے اہل کی حفاظت فرمائے۔ انہوں نے فرمایا: ہمیں امام، متعدد کنیتوں والے، ابو القاسم، ابو بکر، ابو الفتح منصور بن عبد المنعم الفراوی نے خبر دی۔ انہوں نے فرمایا: ہمیں امام، فقیہ الحرمین، میرے پردادا ابو عبد اللہ محمد بن الفضل الفراوی نے خبر دی۔ انہوں نے فرمایا: ہمیں ابو الحسین عبد الغافر الفارسی نے خبر دی۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے احمد محمد بن عیسیٰ الجلودی نے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان الفقیہ نے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے امام ابو الحسین مسلم بن حجاجؒ نے بیان کیا۔  یہ وہ سند ہے جو ہمیں، اور ہمارے اہلِ زمانہ میں اُن لوگوں کو حاصل ہوئی ہے جو اس میں ہمارے شریک ہیں، اور بحمد اللہ یہ نہایت بلند سندوں میں سے ہے، چنانچہ ...

شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، 1 علمِ حدیث کی اہمیت اور مقام

   بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہمارے شیخ، امام، عالم، زاہد اور صاحبِ ورع محی الدین یحییٰ بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن حزام النووی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو کرم فرمانے والا، بے حد عطا کرنے والا ہے، جس کی نعمتیں شمار و حساب سے بلند ہیں، جو لطف و ہدایت کا خالق ہے، جو راہِ راست کی طرف ہدایت دینے والا ہے، جو اپنے کرم سے درست اور سیدھی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے، اور جس نے اپنے حبیب و خلیل، اپنے بندے اور رسول کی سنت کی نگہداشت کا خاص اہتمام فرما کر بندوں پر احسان کیا۔ آپ پر، اور اللہ کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے اپنے لطف سے نوازا، اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔ اسی رب کریم نے اس امت کو--اللہ اس کے شرف میں مزید اضافہ فرمائے-- علمِ اسناد کی خصوصیت عطا فرمائی، ایک ایسا علم جس میں پے در پے زمانوں اور مسلسل ادوار کے گزرنے کے باوجود کوئی دوسری امت اس کی شریک نہیں ہو سکی۔ اسی نے اس پاکیزہ، معزز اور مطہر سنت کی حفاظت کے لیے حفاظ اور نقاد اہلِ علم کے خاص گروہ کھڑے کیے، اور انہیں ہر زمانے اور ہر خطے میں اس سنت کے دفاع کے لیے مقرر فرمایا۔ یہ حضرات اپنی...

English Translation of al-Jahshiyari’s Kitab al-Wuzaraʾ wa al-Kuttab: 7: Scribes During the Reign of ʿAbd al-Malik b. Marwān

  During the Reign of ʿ Abd al-Malik b. Marwān Qabīṣah b. Dhuᵓayb b. Ḥalḥalah [b. ʿAmr] al-Khuzaʿī, known by the kunya of Abū Isḥāq, used to work as a scribe of ʿAbd al-Malik. He was particularly close to him, and his position with ʿAbd al-Malik was such that he would read the letters that came to ʿAbd al-Malik before ʿAbd al-Malik himself read them. Marwān b. al-Ḥakam had designated his other son, ʿAbd al-ʿAzīz, to succeed to the caliphate after ʿAbd al-Malik’s death. Once ʿAbd al-Malik had consolidated his authority, however, he considered setting aside his father’s arrangement and appointing his own sons, al-Walīd and Sulaymān, as his successors. Qubayṣah b. Dhūʾayb advised him against doing so, saying that death might overtake ʿAbd al-ʿAzīz and spare the caliph the need to act. ʿAbd al-Malik had appointed his brother ʿAbd al-ʿAzīz as governor of Egypt. In Jumādā al-Awwal of the year 85 AH, the letter announcing ʿAbd al-ʿAzīz’s death arrived, and Qubayṣah read it befor...

32. Proofs from the Hadith On that Allah is in the Heavens : Kitab al-Tawhid (The Book on Monotheism) by Abu Bakr b. Khuzaymah

Proof from the Prophetic Sayings These ḥadīths prove that Allāh is stationed above everything, and is in the heavens, corresponding to what He mentioned in His Book and what He has told us through the tongue of His Prophet. Every ḥadīth narrative as is directly traced back to the Prophet through chains of reliable persons without a break is in accordance with the Book of Allāh. Such authentic narratives never go against the holy Qurᵓān. 167. (1) Abū Kurayb → Abū Usāmah  → al-Aᶜmash → Abū Ṣāliḥ → Abū Hurayrah: Fāṭimah came to the Prophet and asked him to grant her a slave. The Prophet advised her to repeat the following words: “O Allāh the owner of all the seven heavens and the greatest throne, our Lord, the Lord of everything, the sender of the Psalms and the Bible, (once the narrator added the words “and the great Qurᵓān”), the one who makes the seed-grain and the date-stone to sprout, I seek your refuge from the evil of every such thing as will be grasped by you from...