شرح صحیح مسلم، امام نووی :مقدمات، 6: فصل:
فصل: صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی معلق روایات کا حکم
امام ابو عمرو ابن صلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بعض روایات ایسی ہیں جن کی سند بظاہر منقطع معلوم ہوتی ہے۔ لیکن محض اس ظاہری انقطاع کی بنا پر انہیں عام منقطع روایات کے حکم میں رکھ کر صحیح کے درجے سے نکال کر ضعیف کے درجے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ اس قسم کی روایات کو معلق روایات کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے تعلیق کی اصطلاح امام ابو حسن دارقطنی نے استعمال کی ہے۔ حمیدی نے بھی اپنی کتاب الجمع بین الصحیحین میں یہی اصطلاح اختیار کی ہے، اور مغرب کے دوسرے اہلِ علم بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس نوع کی روایات صحیح بخاری میں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں، لیکن صحیح مسلم میں ان کی تعداد نہایت کم ہے۔
ابن صلاح فرماتے ہیں کہ اگر امام بخاری یا امام مسلم کسی ايسي معلق روایت کو ایسے قطعی الفاظ میں نقل کریں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ جس راوی سے وہ روایت نقل کر رہے ہیں، اس نے فی الواقع وہ بات کہی ہے یا اسے روایت کیا ہے، اور اس راوی سے آگے سند ان دونوں ائمہ کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق متصل ہو، تو ان دونوں کتابوں کی حیثیت اور ان کے مصنفین کا معروف طریقۂ کار اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایسی روایت ان کے نزدیک صحیح سمجھی جائے۔
مثلاً وہ کہیں: «رَوَى الزُّهْرِيُّ عَنْ فُلَانٍ» [زہری نے فلاں شخص سے روایت کیا]، اور اس کے بعد زہری سے آگے کی صحیح سند بیان کردیں۔ ایسی صورت میں [اگرچہ مصنف اور زہری کے درمیان واسطے مذکور نہیں ہیں]، لیکن ان دونوں ائمہ کا اس انداز سے روایت نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسے صحیح سمجھتے ہیں۔
یہی حکم ان روایتوں کا بھی ہے جنہیں ان دونوں میں سے کسی نے کسی ایسے شخص سے نقل کیا ہو جس کا نام صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ مبہم الفاظ میں اس کا ذکر کیا گیا ہو، بشرطیکہ اس روایت کو محض تائید کے لیے نہیں، بلکہ اصل دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ «حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا» [ہمارے بعض ساتھیوں نے مجھ سے بیان کیا]، یا اس طرح کی کوئی دوسری تعبیر استعمال کرنا۔
ابن صلاح مزید فرماتے ہیں کہ حافظ ابو علی غسانی جیانی نے لکھا ہے کہ صحیح مسلم میں چودہ مقامات ایسے ہیں جہاں روایت کی سند میں بظاہر انقطاع پایا جاتا ہے۔ [ان مقامات کی تفصیل یہ ہے]:
پہلا مقام کتاب التیمم میں ابو الجہم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جہاں امام مسلم نے کہا ہے: «وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ» [اور لیث بن سعد نے روایت کیا]۔
دوسرا مقام کتاب الصلاۃ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے باب میں ہے۔ یہاں امام مسلم فرماتے ہیں: «حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا عَنِ الْأَعْمَشِ» [ہمارے ایک ساتھی نے اسماعیل بن زکریا کے واسطے سے، اور انہوں نے اعمش کے واسطے سے، ہمیں یہ حدیث بیان کی]۔
یہ الفاظ ابو العلاء بن ماہان کی روایت میں آئے ہیں۔ البتہ ابو احمد جلودی کی روایت اس انقطاع سے محفوظ ہے، کیونکہ اس روایت کے مطابق امام مسلم نے سند کو اس طرح بیان کیا ہے: «حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا» [ہم سے محمد بن بکار نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا]۔
تیسرا مقام تکبیرِ تحریمہ اور قراءت کے درمیان خاموش رہنے کے باب میں ہے، جہاں امام مسلم فرماتے ہیں: «وَحُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ» [مجھے یحییٰ بن حسان اور یونس مؤدب کے واسطے سے یہ حدیث بیان کی گئی]۔
چوتھا مقام کتاب الجنائز میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے وقت بقیع تشریف لے جانے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ یہاں امام مسلم فرماتے ہیں: «وَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ» [مجھ سے ایک ایسے شخص نے بیان کیا جس نے حجاج اعور سے یہ حدیث سنی تھی، اور الفاظ اسی کے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا]۔
پانچواں مقام حوائج کے باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جہاں امام مسلم فرماتے ہیں: «حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ» [میرے کئی ساتھیوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا]۔
چھٹا مقام اسی باب میں ہے، جہاں امام مسلم نے کہا ہے: «وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ» [لیث بن سعد نے روایت کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا]۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں ابن ابی حدرد سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا واقعہ مذکور ہے۔
ساتواں مقام غذائی اشیا کی ذخیرہ اندوزی کے باب میں معمر بن عبد اللہ عدوی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جہاں امام مسلم نے کہا ہے: «حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ» [میرے بعض ساتھیوں نے عمرو بن عون کے واسطے سے مجھ سے یہ حدیث بیان کی]۔
آٹھواں مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و شمائل کے بیان میں ہے، جہاں امام مسلم فرماتے ہیں: «وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَمِمَّنْ رَوَى ذَلِكَ عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ» [مجھے ابو اسامہ کے واسطے سے یہ حدیث بیان کی گئی۔ ابو اسامہ سے اسے روایت کرنے والوں میں ابراہیم بن سعید جوہری بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا]۔
ابو علی نے لکھا ہے کہ ابو احمد جلودی نے یہ حدیث محمد بن مسیب ارغیابی کے واسطے سے ابراہیم بن سعید سے روایت کی ہے۔
ابن الصلاح فرماتے ہیں کہ ہم نے بھی اس حدیث کو احمد کے طریق کے علاوہ محمد بن مسیب کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ اسی طرح محمد بن مسیب کے سوا دوسرے راویوں نے بھی اسے ابراہیم جوہری سے نقل کیا ہے۔ ان شاء اللہ اس کی مزید تفصیل متعلقہ مقام پر بیان کی جائے گی۔
نواں مقام کتاب الفضائل کے آخر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ» [س رات کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے]؟
امام مسلم نے پہلے اس حدیث کو معمر، زہری، سالم اور ان کے والد [عبد اللہ بن عمر] کے واسطے سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: «حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ» [مجھ سے عبد اللہ بن عبد الرحمن دارمی نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو الیمان نے خبر دی، اور ابو الیمان نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی]۔
پھر امام مسلم نے ذکر کیا ہے کہ لیث نے بھی یہ حدیث عبد الرحمن بن خالد بن مسافر سے روایت کی ہے۔ شعیب اور عبد الرحمن بن خالد، دونوں نے اسے زہری سے معمر ہی کی سند کے مطابق اور اسی مضمون کے ساتھ نقل کیا ہے۔
دسواں مقام کتاب القدر کے آخر میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ» [تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے]۔
اس حدیث کے سلسلے میں امام مسلم فرماتے ہیں: «حَدَّثَنِي عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ» [میرے کئی ساتھیوں نے سعید بن ابی مریم کے واسطے سے مجھ سے یہ حدیث بیان کی]۔
اس روایت کی سند ابراہیم بن محمد بن سفیان نے محمد بن یحییٰ کے واسطے سے ابن ابی مریم تک متصل بیان کی ہے۔
ابن صلاح فرماتے ہیں کہ امام مسلم نے اس روایت کو اصل دلیل کے طور پر نہیں، بلکہ متابعت اور استشہاد کے لیے ذکر کیا ہے۔
گیارھواں مقام حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ہے جس میں صلاۃِ وسطیٰ کا ذکر ہے۔ امام مسلم نے پہلے اسے متصل سند کے ساتھ روایت کیا، پھر متابعت اور استشہاد کے طور پر فرمایا: «وَرَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ» [اور اشجعی نے اسے سفیان ثوری سے روایت کیا] الى آخره۔
بارھواں مقام رجم کے باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ہے جس میں ایک شخص کے اپنے اوپر زنا کا اعتراف کرنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ امام مسلم نے پہلے اس حدیث کو متصل سند کے ساتھ نقل کیا، پھر بطورِ متابعت فرمایا: «وَرَوَاهُ اللَّيْثُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ» [اور لیث نے بھی اسے عبد الرحمن بن خالد بن مسافر سے، انہوں نے ابن شہاب سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا]۔
تیرھواں مقام کتاب الامارۃ میں حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ» [تمھارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو]۔
امام مسلم نے پہلے اس حدیث کو متصل سند کے ساتھ روایت کیا، پھر بطورِ متابعت فرمایا: «وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ» [اور معاویہ بن صالح نے اسے ربیعہ بن یزید سے روایت کیا]۔
ابن صلاح فرماتے ہیں کہ ابو علی نے اپنی کتاب کی اس روایت میں جو ہم تک پہنچی ہے، چودھویں مقام پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث «أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ» ذکر کی ہے جس کا بیان کتاب الفضائل کے ضمن میں پہلے گزر چکا ہے۔ گویا ایک ہی حدیث دو مرتبہ شمار ہوگئی ہے۔ اس لیے اسے تعداد سے خارج کردینا چاہیے۔
اسی طرح دوسری حدیث بھی اس شمار سے نکل جاتی ہے، کیونکہ ابو احمد جلودی نے اسے امام مسلم سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ان کی روایت ہی مشہور اور معتبر ہے۔ اس لحاظ سے ان مقامات کی صحیح تعداد چودہ نہیں، بلکہ بارہ ہے۔
Comments
Post a Comment