- فصل: [مسلمؒ کے ہاں صحیح کی شرط]
شیخ امام ابو عمرو ابن الصلاحؒ فرماتے ہیں کہ امام مسلمؒ نے
اپنی صحیح میں [حدیث کی صحت کی لازمی] شرط یہ رکھی ہے کہ اس کی سند متصل ہو، [اس
سند میں] ہر راوی معتبر ہو، اپنے جیسے معتبر راوی سے روایت کر رہا ہو، اور یہ
سلسلہ ابتدا سے انتہا تک ایسے ہی راویوں کے ذریعے پہنچے۔ مزید یہ کہ سند کسی شذوذ
یا علت سے پاک ہو۔ انہوں نے کہا: یہی صحیح حدیث کی درست تعریف ہے۔ لہٰذا جس حدیث
میں یہ تمام شرائط موجود ہوں، وہ اہلِ حدیث کے ہاں بلا اختلاف صحیح مانی جاتی ہے۔
جہاں اہلِ علم نے کسی حدیث کی صحت میں اختلاف کیا ہے، اس کی
مختلف وجوہات ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی حدیث میں ان شرائط میں سے کسی ایک شرط کا
فقدان ہو، یا اہلِ حدیث اس امر میں مختلف ہوں کہ کون سی شرط ضروری ہے۔ مثال کے طور
پر کسی روایت کی سند میں بعض راوی مستور ہوں، یا حدیث مرسل ہو۔ بعض اوقات اختلاف
اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ آیا کسی حدیث میں یہ تمام شرائط موجود ہیں یا ان میں سے
بعض مفقود ہیں، اور اختلاف کا سب سے عام سبب یہی ہے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہوں، مگر ان
میں ابو الزبیر مکی، سہیل بن ابی صالح، العلاء بن عبد الرحمن، یا حماد بن سلمہ
شامل ہوں۔ اس طرح کی حدیث کے بارے میں اہلِ علم کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلمؒ کے
معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن بخاریؒ کی شرائط کے مطابق صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ
ہے کہ امام مسلمؒ کے نزدیک مذکورہ راوی صحت کی معتبر شرائط پر پورا اترتے ہیں، مگر
بخاریؒ کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح بخاریؒ کا حال ہے کہ انہوں نے بعض ایسے
راویوں کی روایت کو قبول کیا ہے جو مسلمؒ کے ہاں مقبول نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر
بخاریؒ نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس، اسحاق بن محمد فروی، عمرو بن مرزوق، اور دیگر
ایسے راویوں کو قبول کیا ہے جو مسلمؒ کے ہاں مقبول نہیں۔
حاکم ابو عبد اللہ حافظ نیساپوری اپنی کتاب المدخل میں
لکھتے ہیں کہ بخاریؒ کی الجامع الصحیح میں 434 ایسے شیوخ کی روایات ہیں جن
کی روایت مسلمؒ میں نہیں آئی، اور 625 ایسے شیوخ ہیں جن کی روایت مسلمؒ کی مسند
میں تو آئی ہے، لیکن بخاریؒ کی جامع میں نہیں۔ واللہ أعلم۔
رہا امام مسلم رحمہ اللہ کا یہ قول جو انہوں نے اپنی صحیح
میں، “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی صفت” کے باب میں فرمایا ہے کہ: “ہر
وہ حدیث جو میرے نزدیک صحیح ہے، میں نے اسے یہاں، یعنی اپنی اس صحیح میں، درج نہیں
کیا، بلکہ میں نے یہاں صرف وہ احادیث درج کی ہیں جن کی صحت پر اہلِ علم کا اجماع
ہے”، تو یہ بات بظاہر محلِ اشکال ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بکثرت ایسی
احادیث بھی درج کی ہیں جن کی صحت میں اختلاف کیا گیا ہے، اس بنا پر کہ وہ ان
راویوں کی روایات ہیں جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں، یا ان راویوں کی جن کا ذکر ہم نے
نہیں کیا، مگر ان کی حدیث کی صحت کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا
ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس اشکال کا جواب دو طرح سے دیا
جا سکتا ہے۔
ایک جواب یہ ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ کی مراد یہ تھی کہ
انہوں نے اپنی کتاب میں صرف وہی حدیث درج کی ہے جس میں ان کے نزدیک صحیح حدیث کی
وہ شرائط پائی جاتی تھیں جن پر محدثین کا اتفاق ہے، اگرچہ بعض اہلِ علم پر بعض
احادیث میں ان شرائط کا جمع ہونا واضح نہ ہوا ہو۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ ان کی مراد یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے
اپنی کتاب میں ایسی حدیث درج نہیں کی جس کے نفسِ حدیث، یعنی اس کے متن یا سند، میں
ثقہ راویوں کا اختلاف ہو۔ ان کی مراد وہ روایات نہ تھیں جن میں اختلاف صرف بعض
راویوں کی توثیق کے بارے میں ہو۔ امام مسلم رحمہ اللہ کے کلام سے ظاہر بھی یہی
ہوتا ہے، کیونکہ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
کی اس حدیث کے بارے میں سوال پوچھا گیا کہ “جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو”۔ سوال
یہ تھا کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میرے نزدیک یہ صحیح ہے۔ پھر ان
سے کہا گیا کہ آپ نے اسے یہاں کیوں درج نہیں کیا؟ اس پر انہوں نے وہی جواب دیا جو
اوپر نقل ہوا۔
اس کے باوجود مسلمؒ کی کتاب میں ایسی احادیث بھی موجود ہیں جن کی سند یا متن میں اختلاف کیا گیا ہے۔ مسلمؒ نے یہ احادیث اس لیے درج کیں کہ وہ ان کے نزدیک صحیح تھیں۔ پس اس میں یا تو اس شرط کے بارے میں انہیں ذہول لاحق ہوا، یا پھر اس کا کوئی اور سبب تھا۔ اور ایسی روایات پر استدراک بھی کیا گیا ہے اور ان کی علت بھی سامنے لائی گئی ہے۔
یہاں شیخ رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔
Comments
Post a Comment